ہیں اسلامی تاریخ میں غزوہ بدر وہ عظیم معرکہ ہے جو 17 رمضان المبارک کو لڑا گیا۔ اس جنگ میں 313 صحابہ کرامؓ نے روزہ رکھا ہوا تھا
یہ عظیم صحابہؓ رہتی دنیا تک کے لیے قربانی، ایثار اور بہادری کی روشن مثال ہیں
اسلامی تاریخ میں غزوہ بدر وہ عظیم معرکہ ہے جو 17 رمضان المبارک کو لڑا گیا۔ اس جنگ میں 313 صحابہ کرامؓ نے روزہ رکھا ہوا تھا
اور افطار کے وقت محض چند کھجوروں سے روزہ کھول کر میدانِ جنگ میں اترے تھے۔
اس حوالے سے خاص طور پر حضرت عمیر بن حمام رضی اللہ عنہ کا واقعہ بہت مشہور ہے:
واقعہ: جب رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو جنت کی خوشخبری سنائی تو حضرت عمیر بن حمامؓ اپنی ترکش سے کھجوریں نکال کر کھا رہے تھے۔
غزوہ بدر کے موقع پر کھجور سے روزہ رکھ کر اور بغیر کسی خاص تیاری کے حق و باطل کے پہلے معرکے میں نکلنے والے 313 جری صحابہ کرامؓ (مہاجرین و انصار) تھے۔ یہ صحابہؓ رمضان المبارک میں انتہائی نامساعد حالات، بھوک اور قلیل وسائل کے باوجود اللہ کی نصرت پر یقین رکھتے ہوئے میدانِ جنگ میں دشمن کے سامنے ڈٹ گئے۔
واقعہ: یہ واقعہ ہجرت کے دوسرے سال پیش آیا جب مسلمانوں کی ایک چھوٹی جماعت کفارِ مکہ کے بڑے لشکر کے مقابلے میں نکلی۔
سادگی: ان صحابہ کرامؓ کے پاس نہ تو لڑائی کے مکمل ہتھیار تھے اور نہ ہی کھانے پینے کا وافر سامان، بلکہ اکثر کے پاس صرف چند کھجوریں تھیں جن سے انہوں نے روزہ رکھا اور جنگ لڑنے نکلے۔
عظمت: ان صحابہؓ نے ایمان کی طاقت سے ثابت کیا کہ کامیابی وسائل سے نہیں بلکہ اللہ پر کامل یقین سے ملتی ہے۔
جذبہ شہادت: انہوں نے فرمایا: “اگر میں ان کھجوروں کے ختم ہونے تک زندہ رہا تو یہ تو بڑی لمبی زندگی ہوگی”۔
عمل: یہ کہہ کر انہوں نے ہاتھ میں موجود باقی کھجوریں پھینک دیں اور فوراً میدانِ جنگ میں کود پڑے یہاں تک کہ جامِ شہادت نوش کیا۔
اس معرکے میں مسلمانوں کی تعداد صرف 313 تھی جبکہ ان کے مقابلے میں ایک ہزار کا لشکر تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عظیم فتح عطا فرمائی۔

Comments
Post a Comment