کیا آپ ایک کروڑ 17 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ کے عوض دنیا کے سرد ترین براعظم میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں؟
کیا آپ ایک کروڑ 17 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ کے عوض دنیا کے سرد ترین براعظم میں کام کرنے کے لیے تیار ہیں؟
Antarctica میں برطانیہ اور امریکہ اپنے تحقیقی مراکز کے لیے نئے ملازمین کی تلاش میں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہاں ملازمت کے لیے سائنسدان ہونا لازمی نہیں۔ کارپینٹرز، الیکٹریشنز، باورچی، مکینکس اور حتیٰ کہ حجاموں کی بھی ضرورت ہے۔
یہ ملازمتیں پرکشش تنخواہوں کے ساتھ آتی ہیں، تاہم ان کے ساتھ سخت سردی، طویل اندھیرا، محدود سماجی روابط اور مکمل تنہائی جیسے چیلنجز بھی جڑے ہوتے ہیں۔
38 سالہ ڈین میکنزی اس وقت انٹارکٹکا میں قائم Halley VI Research Station کے سٹیشن لیڈر ہیں۔ یہ مرکز برطانیہ کے قطبی تحقیقاتی ادارے British Antarctic Survey کے زیرِ انتظام پانچ تحقیقی مراکز میں سے ایک ہے۔
ڈین، جو ماضی میں میرین انجینیئر رہ چکے ہیں، 19 برس کی عمر میں Wigan میں واقع اپنا گھر چھوڑ کر دنیا کے مختلف دور دراز علاقوں میں کام کر چکے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:
“میں ہمیشہ سے مہم جو رہا ہوں اور غیر آباد علاقوں کی تلاش میں دلچسپی رکھتا ہوں۔ میں پہلے جہازوں پر کام کرتا تھا لیکن کچھ نیا اور مختلف کرنا چاہتا تھا۔ انٹارکٹکا کی یہ ذمہ داری میری صلاحیتوں سے ہم آہنگ ہے۔”
انٹارکٹکا میں کام کرنا یقینا ایک غیر معمولی تجربہ ہے، مگر یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ شدید منفی درجہ حرارت، کئی ماہ تک سورج کا نہ نکلنا، اور محدود سہولیات اس ملازمت کو دنیا کی مشکل ترین نوکریوں میں شامل کر دیتے ہیں۔

Comments
Post a Comment