مدینہ منورہ سے کوئی 300 کلومیٹر دور ایک خاموش علاقہ ہے ۔ اس کو مدائن صالح کہتے ہیں۔

https://www.effectivegatecpm.com/ab86707dm?key=f0fd877fc4b6970fa54132b456b07da4
 مدینہ منورہ سے کوئی 300 کلومیٹر دور ایک خاموش علاقہ ہے ۔ اس کو مدائن صالح کہتے ہیں۔ اس علاقے میں حضرت صالح ؑ کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کو قوم ثمود بھی کہتے ہیں ۔ یہ قوم حضرت ہود ؑ کی قوم کے ہم عصر تھے۔ حضرت ہود کی قوم کو قوم عاد کہتے ہیں ۔ جن کی باقیات آج کل بحرین کے صحرا ابار میں موجود ہیں ۔

جنانچہ قوم صالح ؑ یا قوم ثمود نے اللہ سے کفر کیا۔ بہت بڑے لمبے چوڑے اور طاقتور تھے، انہوں نے پہاڑوں کے اندر اپنے گھر بنا رکھے تھے۔ جو کسی بھی موسمی شدت کا مقابلہ کر سکتے تھے۔ وہ حضرت صالح ؑ کی تبلیغ کے مقابلے میں کہتے اے صالح ہمارے عظیم الشان گھروں کو دیکھ کیا ہم بہت زیادہ طاقت والے نہیں ؟ اگر ہمارے مقابلے پر کوئی اور قوم ہے ان کو لاؤ ہمارے سامنے ۔لیکن جب انہوں نے اللہ کی نشانی ایک اونٹنی کو مار ڈالا۔

https://www.effectivegatecpm.com/q5471dcxcv?key=37f65748e2562757ba94d67e0825d22d

اونٹنی کے قتل کےبعد جب حضرت صالح نے عذاب کا اعلان کیا تو قیدار بن سالف جس نے اونٹنی کو قتل کیا تھا اس نے آٹھ اوباش اپنے ساتھ لئے اور عذاب سے پہلے رات کو حضرت صالح علیہ السلام اور اپ کے گھر والوں کو قتل کرنے کی سازش کی مگر اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر کی حفاظت فرمائی اور بڑے عذاب سے پہلے ہی رات کو قیدار بن سالف اور پارٹی کا پتھر برسا کر خاتمہ کر دیا

تفسیر سورہ نمل آخری رکوع۔

حضرت صالحؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ 3 دن اپنے گھروں میں فائدہ اٹھا لو ۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جھوٹا نہیں ہو گا۔ تو اللہ نے حضرت صالحؑ کو اور کچھ لوگوں کو اپنی مہربانی سے بچا لیا ۔اس قوم کو چنگاڑ نے آ پکڑا ۔۔۔ وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے ۔ فرشتے کی وہ چیخ یا چنگاڑ اتنی شدید تھی کہ ان کے کلیجے پھٹ گئے، اور اپنی گھروں میں پڑے پڑے ہی ہلاک ہو گئے ۔ وہ جتنے بھی طاقتور تھے لیکن اللہ سے زیادہ زور آور نہیں ہو سکتے ۔ وہ برتر اور اعلی ہے ۔

https://www.effectivegatecpm.com/grz0xzg7f?key=38d1c1d726187d544c3645d537a041e6

روایت میں ہے کہ حضرت محمد ﷺ اپنے کچھ اصحاب کے ساتھ اس علاقے سے گزرے ۔ حضرت محمد ﷺ کے چہرہ انوار پر اضطراب تھا۔ اور ایسا لگتا تھا وہ جلدی میں ہیں۔ وہاں کے لوگوں نے ایک کنوئیں کا پانی پیش کیا، لیکن حضرت محمد ﷺ نے اپنے اصحاب کو منع فرما دیا اور جلد وہاں سے نکلنے کا حکم دیا، صحابہً نے اضطراب کی وجہ پوچھی تو حضرت محمد ﷺ نے فرمایا یہاں اللہ کا عذاب نازل ہوچکا ہے۔ یہ علاقہ حضرت صالح ؑ کی قوم کا ہے جس پر اللہ نے سخت عذاب نازل کیا ۔

وہاں نا رکنا اور نا پانی پینا ایسے راز ہیں جس کی خبر ہمیں نہیں ہے، حضرت محمد ﷺ طبعیتا معصوم ہیں چنانچہ عذاب الہی کا سن کر عام شخص اندر سے دہل جاتا ہے۔ وہ تو اللہ کے رسول ہیں جن کو اللہ کی طاقت کا بخوبی علم ہے۔https://www.effectivegatecpm.com/grz0xzg7f?key=38d1c1d726187d544c3645d537a041e6

بالکل ایسے ہی قوم لوطؑ کے ساتھ ہوا۔ وہ لوگ ہم جنس پرستی جیسے مکروہ کام میں پڑ چکے تھے، حضرت لوط ؑ نے ان کو خبر دار کیا لیکن عیش و عشرت اور گناہوں کی لزت میں اس قدر غرق تھے کہ حضرت لوط ؑ کو ستانا شروع کر دیا۔

حضرت لوط ؑ حضرت ابراہیم ؑ کے ہم عصر تھے ۔ اپنی قوم کو بہت سمجھایا لیکن وہ باز نہیں آئے۔ اللہ نے اپنے فرشتے حضرت لوط ؑ کی طرف بھیجے انہوں نے حضرت لوط ؑ سے کہا کہ کچھ رات رہے یہاں سے اپنے اہل و آیال کو لیکر نکل جائیں ۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ ہمارے عذاب کا وقت صبح ہے ۔۔ اور کیا صبح کچھ دور ہے ؟؟

فرشتوں نے تاکید کی کہ کوئی شخص پیچھے مڑ کر نا دیکھے،

جناچہ سحری کے وقت قوم لوط ؑ پر اللہ نے آسمان سے پتھروں اور آگ کی بارش کر دی ۔ اور قرآن میں اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان پر تہہ بر تہہ کنکریاں برسائیں اور پوری بستی کو نیچے سے اوپر کر دیا۔

https://www.effectivegatecpm.com/q5471dcxcv?key=37f65748e2562757ba94d67e0825d22d

آج جدید سائنس نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ جب یہ قوم زمین پر تھی اس وقت برج سنبلہ سے شہاب ثاقبوں کی بارش ہوئی تھی، وہ پتھروں کی بارش آگ کے بگولوں کی طرح اس قوم پر نازل ہوئی تھی۔ یہ اپنی دنیا میں مگن تھے ان کی ہڈیوں سے پتا چلتا ہے کہ انتہائی کرب ناک عذاب کی زد میں آگئے تھے۔

حضرت لوط ؑ کی بیوی نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی اور مڑ کر پیچھے تباہ ہوتا شہر دیکھنے لگی۔ اور وہی پتھر کی ہو گئیں ۔۔۔ ان کی باقیات آج بھی بحیرہ مردار کے پاس وادی سدوم میں دیکھی جا سکتی ہیں ۔۔۔https://www.effectivegatecpm.com/ab86707dm?key=f0fd877fc4b6970fa54132b456b07da4

اللہ ہمیں اپنے سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق دے اور عذاب الہی سے بچائے رکھے۔ جو یقینا ہمارے لیے بہت بھاری ہے..!!

Comments

Popular posts from this blog

The Little Robot and the Blue Bird