آیے مسجد النبوی کا ایک قالین ہٹاتے ہیں اور دیکھتے ہیں یہ مقام کیوں منفرد ہے ؟
آیے مسجد النبوی کا ایک قالین ہٹاتے ہیں اور دیکھتے ہیں یہ مقام کیوں منفرد ہے ؟
===================
https://www.effectivegatecpm.com/ab86707dm?key=f0fd877fc4b6970fa54132b456b07da4
موجودہ مسجد النبوی صلی الله علیہ وسلم کے ایک مرکزی دروازے ''باب فہد بن عبد العزیز '' سے اندر داخل ہوا جائے تو لال قالینوں کا ایک نہ روکنے والا سلسلہ آنکھوں کے سامنے موجود ہوتا ہے جو قبلہ رخ امام مسجد النبوی شریف کی محراب جسے '' محراب عثمانی کہتے ہیں ، پر جا کر ختم ہوتا ہے لیکن بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ھوتا ہے کہ اس مرکزی دروازے سے اندر داخل ہونے کا بعد جب وہ آگے کی جانب بڑھ رہے ہوتے ہیں تو کچھہ فاصلے پر وہ ایک ایسے مقام پر موجود ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک ایسا روحانی پہلو رکھتا ہے کہ اگر عشاق رسول صلی الله علیہ وسلم کو اسکا علم ہو تو وہ کچھہ ساعتیں یہاں رک کر اسکی زیارت کو اپنے لیے باعث شرف و صد افتخار سمجھیں گے کیوں کہ یہ وہ مقام با برکت ہے جس نے کئی مرتبہ رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم کے قدمین مبارک کو بوسہ دینے کا اعزاز لا فانی حاصل کیا - ہوسکتا ہے آپ اس مقام پر موجود قالین کے اوپر نماز بھی ادا کر لیں کیوں کہ یہاں فرض نمازوں کی صفیں بنتی ہے لیکن کیا کریں کہ یہ مقام قالینوں نے چھپا دیا ہے -
https://www.effectivegatecpm.com/grz0xzg7f?key=38d1c1d726187d544c3645d537a041e6
رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ کے وقت مسجد النبوی کی حدود بہت مختصر تھیں اور ظاہر ہے کہ یہ مقام مبارک مسجد النوی شریف کے کافی باہر تھا جہاں مدینہ کے لوگوں کے مکانات ، کنویں اور باغات ہوا کرتے تھے -
اس تصویر میں لال تیر کی مدد سے جس دایرے کی جناب اشارہ کی جا رہا ہے یہ در اصل ایک صحابی سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس کنویں کا مقام ہے جسے '' بیر حا '' کے نام سے یاد کیا جاتا ہے - اس کنویں کا پانی بہت خوش زایقه اور شیریں تھا - رسول الله صلی الله علیہ وسلم اکثر اس کنویں پر تشریف لاتے تھے اور اس کا پانی نوش فرماتے تھے - یہ کنواں اور اس کے ارد گرد سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کا ایک باغ تھا جو انکو بہت زیادہ محبوب تھا کیوں کہ پورے مدینہ المنوره اتنا خوبصورت باغ کسی اور کا نہیں تھا لیکن جب رسول مکرم سیدنا محمد صلی الله علیہ وسلم پر ''سوره ال عمران '' کی آیت ٩٢ نازل ہوئی - ) جو میں نے تصویر پر کنویں کے نشان کے پاس لکھہ دی ہے جس کا ترجمہ ہے :-
'' جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو الله کی راه میں
خرچ نہیں کرو گے ' ہرگز بھلائی نہ پاؤ گے ''
( کچھہ کتابوں یہ بھی لکھا ہے کہ یہ آیات بھی اسی مقام پر نازل ہوئی تھیں یعنی اس کنویں یا باغ کے قریب - واللہ اعلم - )
https://www.effectivegatecpm.com/q5471dcxcv?key=37f65748e2562757ba94d67e0825d22d
تو ان آیات کو سن کر سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا '' یا رسول الله صلی الله علیہ وسلم میرا تو سب سے زیادہ پیارا مال یہی باغ ہے - میں آپکو گواہ کرتا ہوں میں نے اسے الله کی راہ میں صدقه کیا ' الله تعالی مجھے بھلائی عطا فرمائیں اور اپنے پاس اسے میرے لیے ذخیرہ کریں - آپکو ( رسول الله صلی الله علیہ وسلم) اختیار ہے آپ صلی الله علیہ وسلم جس طرح چاہیں اسکو تقسیم کر دیں ''
آپ صلی الله علیہ وسلم آپکے اس طرز عمل سے بہت خوش ہوے اور فرمانے لگے '' مسمانوں کو اس سے بہت فائدہ پہنچے گا ' تم اسے اپنے رشتے داروں میں تقسیم کردو - '' چنانچہ سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ نے اسے اپنے رشتے داروں اور چچا زاد بھائیوں میں بانٹ دیا ''
سیدنا ابو طلحہ انصاری رضی الله تعالی عنہ کے اس واقعہ کے اور قرانی آیت کے نزول کے تناظر میں اس مقام کی زیارت کی جایے تو یقینا'' دلوں کو روحانی سکوں ملتا ہے -

Comments
Post a Comment