ایک شخص چھ ری سے سبزی کاٹ رہا ہے دوسرا قلم سے تفسیر لکھ رہا ہے تیسرا ماچس سے چولھا جلا رہا ہے
ہمیں تنقید کرنا بھی نہیں آتا
ایک شخص چھ ری سے سبزی کاٹ رہا ہے دوسرا قلم سے تفسیر لکھ رہا ہے تیسرا ماچس سے چولھا جلا رہا ہے
اور ہم ان تینوں پر تنقید کررہے ہیں کہ اس کو دیکھو اتنا لوگ چھ ری سے ب ن د ہ نہیں۔ کاٹتے جتنا اس نے سبزیاں کٹ دی ہیں
اور اس کو دیکھو قلم سے تفسیر لکھ رہا ہے قرآن لکھ رہا ہے حالانکہ قلم تو فحاشی لکھنے کا آلہ ہے اس سے ہم نے فحاشی پھیلتے دیکھی ہے اس سے غلط فیصلے ہوتے دیکھے ہیں
اور اس کے کام دیکھو یہ ماچس سے کھانا پکانے کیلئے چولھا جلا رہا ہے جبکہ اس سے تو گھر جلائے جاتے ہین گل پلازہ جلایا جاتا ہے ب ن د ہ جلایا جاتا ہے الامان الحفیظ
ہمیں ہو کیا گیا ہے اگر کسی اور نے عقل نہیں دی تو خود تھوڑا سوچیں ہم کر کیا رہے ہیں ہماری بڑوں نے تو ہمیں یہی بتایا تھا کہ کیمرہ از حرام کیوں کہ انہوں نے کیمرے سے کبھی خیر کا کام ہوتے دیکھا نہیں تھا صرف برائی ہی دیکھی تھی
تو ان کے دماغوں میں یہ بات رچ بس گئی ہے کہ یہ خرابی کا آلہ ہے انہوں نے اس سے نامحرموں کو ناچتے ہی دیکھا ہے انہوں نے اس سے قرآن کو بڑھتے نہیں دیکھا
آج جب کچھ عقل مند اس کا درست استعمال کررہے ہیں تو کچھ بے وقوف ان کا مزاق اڑا رہے ہیں
حالانکہ ہونا تو چاہئیے تھا کہ کیمرہ جب برائی کیلئے استعمال ہو تو اس پر تنقید ہو شادیوں میں گھر کی پردہ دار ماں بہنوں کو دکھانے کیلئے استعمال ہوں تو اس پر تنقید ہو
اور جب قرآن پھیلانے کیلئے استعمال ہوں تو اس پر حوصلہ افزائی ہو دین پھیلانے کیلئے استعمال ہو تو اس پر شاباشی ہو علم سکھانے کیلئے استعمال ہو تو اس پر داد دی جائے
اور جب کیمرہ لگاکر اس سے برائی فلمائی جائے تب یہ کہا جائے کہ لو بھی کیمرہ اب اس کام کیلئے استعمال ہونا شروع ہوگیا حالانکہ اس کا کام خیر پھیلانا ہے نا کہ برائی
اپنا مائنڈ سیٹ بدلیں ورنہ آپ کو بدل دیا جائے گا آج کی جنریشن آپ کے یہ ڈھکوسلے نہیں سنے گی آپ کی اس دقیانوسیت کی وجہ سے ہم ویسے ہی سو سال پیچھے چل رہے ہیں دنیا سے مزید نہیں سہہ سکتے
آج سے کیمرہ کو ہر مسجد مدرسہ خانقاہ میں دین کی ترویج کیلئے کتاب و قلم کی طرح استعمال کریں اس سے کوئی تقوی ختم نہیں ہوتا کوئی گناہ نہیں ملتا کوئی برائی کی بات نہیں ہے اور اگر کوئی آپ کا دماغ خراب کرے تو اس سے لڑنے کی ضرورت نہیں ہے قالو سلاما کہہ کر آگے بڑھ جائیے اور اپنا کام کرتے رہیے
واللہ اعلم
خانزادہ عبدالرحمن یوسفزئی
پرسنل برانڈنگ مینٹور کراچی

Comments
Post a Comment